کاروار28؍اکتوبر (ایس اونیوز)پارلیمانی انتخاب کا موسم جیسے جیسے قریب آرہا ہے سیاسی حلقوں میں اتھل پتھل اور اندرونی سازشوں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ فی الحال ضلع شمالی کینرا میں ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا ہے کہ اس مرتبہ یہاں سے پسماندہ طبقے (بیک ورڈ کلاس) کے امیدوار کو کانگریس سے ٹکٹ دیا جائے۔اس رجحان کے چل پڑتے ہی کانگریس اور جے ڈی ایس مشترکہ انتخاب لڑنے کی صورت میں عملی طور پر ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ابھی سے کئی امیدواروں سے اپنی ہلچل شروع کردی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات اڑائی گئی ہے کہ جے ڈ ی ایس او رکانگریس مشترکہ طور پر بھی اگر الیکشن لڑتے ہیں تب بھی چاہے امیدوار جے ڈی ایس کا ہویا کانگریس کا دونوں صورتوں میں ٹکٹ بیک ورڈ کلاس کے امیدوار کو ہی دینا ہوگا۔اس ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار یہ اندازہ لگارہے ہیں کہ ہو نہ ہو اس مطالبے کے پیچھے ایک سازش یہ ہوسکتی ہے کہ یہاں کے سینئر سیاستداں اور وزیر مسٹر آر وی دیشپانڈے یا ان کے فرزند پرشانت دیشپانڈے کو اس مرتبہ انتخابی اکھاڑے سے دور رکھا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اندرونی طور پر بڑی خاموشی کے ساتھ کانگریس کے اندر ہی بیک ورڈ کلاس کا ایک مورچہ تشکیل دیا جارہا ہے۔ اس کوشش کے پیچھے بی کے ہری پرساد کو آگے بڑھانے کا مقصد بھی بتایاجارہا ہے۔خبر یہ بھی ہے کہ جنتادل لیڈر آنند اسنوٹیکر کو کانگریس کے اندر سے ہی کچھ لوگ جنتا د ل سے بیک ورڈ کلاس امیدوار کو آگے لانے کے لئے اکسارہے ہیں۔
پچھلے دنوں سرسی میں ایک بیان دیتے ہوئے وزیر دیشپانڈے نے کہا کہ کانگریس او رجے ڈی ایس مشترکہ طور پر انتخابات لڑنے کی صورت میں بھی ضلع شمالی کینراسے کانگریس کا ہی امیدوار ہوگا۔ اسی بات کو لے کرضلع کانگریس کے اندر یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر کانگریس کو پسماندہ طبقے کے امیدوار کو ہی آگے بڑھانا چاہیے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ پسماندہ طبقے کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کانگریس میں پہلی مرتبہ سامنے آیا ہو۔یہ مطالبہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے وقت بھی کیاگیا تھا۔مگر اس وقت دیشپانڈے کے فرزند پرشانت کو ٹکٹ دینے کی وجہ سے پسماندہ طبقے کو مایوس ہونا پڑاتھا۔
سیاسی جانکاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی امیدوار کو سخت ٹکر دینے کے لئے کانگریس کا ایک مضبوط امیدوار میدان میں ہونا چاہیے اور اس نظریے سے آر وی دیشپانڈے خود ہی اس کے لئے اپنے طور پر تیاری کرتے نظر آرہے ہیں۔ دیشپانڈے ایک تجربہ کار اور سیاسی مہارت رکھنے والی شخصیت ہے۔ فی الحال مخلوط حکومت میں اپنے سے کم تجربہ کار اور جونیئر قسم کے سیاست دانوں کے ساتھ کام کرنا ان کے لئے اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ وزیر دیشپانڈے کی نظریں اب ریاستی سیاست سے ہٹ کر ملکی سیاست کی طرف لگی ہوئی ہیں۔اسی وجہ سے پارلیمانی کرسی براجمان ہونے کی امید میں اس مرتبہ دیشپانڈے کا ٹکٹ کے لئے آگے بڑھنا طے مانا جارہا ہے۔
مگر مشکل ہے کہ اتنے عرصے سے ضلع کے ماہر سیاست دان او روزیر کے طور پر خدمات انجام دینے کے باوجود کانگریس پارٹی کے اندر ہی ان کے لئے سب کچھ ٹھیک ہے والا معاملہ نہیں ہے۔ پارٹی کے بہت سارے لیڈر ان کے خلاف کام کرنے اوران کی جیت میں رکاوٹ پیدا کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اورایسا لگتا ہے اسی وجہ سے اب پسماندہ طبقے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔کانگریسی لیڈروں کی طرف سے کہاجارہا ہے کہ یوں بھی ضلع کے ووٹروں میں پسماندہ طبقات کے ووٹ اکثریت میں ہیں ۔ اس لئے راجیہ سبھا کے رکن بی کے ہری پرسادکو لوک سبھا کی ٹکٹ دے کر میدان میں اتاراجائے۔سمجھا جاتا ہے کہ وقت سے پہلے ہی کانگریس پارٹی کا ایک حلقہ آر وی دیشپانڈے کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ خود یا اپنے بیٹے کو اس مرتبہ انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ دوسروں کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ چھوڑ دیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاست کا گرگٹ اور کتنے رنگ بدلتا ہے اور کانگریس کے ہاتھ کا آشیرواد کس کے سر پر ہوتا ہے۔